Iran

فیکٹ چیک: اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کے ساتھ نیتن یاہو کی ایرانی حملے میں موت کا جھوٹا دعویٰ

Fact Check

گزشتہ کئی دنوں سے ایران اور امریکہ–اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔ اب ایک نیا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایرانی حملے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی موت ہو گئی ہے۔ صارفین دو تصاویر شیئر کر کے نیتن یاہو کی موت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

ان تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے Iran Times نامی ایک صارف نے لکھا:
“بریکنگ نیوز… یہ اس کا ثبوت ہے۔ نیتن یاہو ختم ہو گیا، شاباش ایران الحمدللہ۔ آخرکار بنیامین نیتن یاہو کی لاش مل گئی ہے۔ اسے ایران نے مارا تھا، اور CNN نے دو دن پہلے جو رپورٹ دی تھی وہ اب سچ ثابت ہو گئی ہے۔”

ایک اور صارف نے لکھا:
“سب سے بڑی خبر… ایرانی میڈیا پہلے ہی اس خبر کو شائع کر چکا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ نیتن یاہو اور موساد کے سربراہ ایرانی میزائل حملے میں مارے گئے ہیں۔ نیتن یاہو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ موساد کے سربراہ کو اسپتال لے جایا گیا، مگر ڈاکٹر انہیں بھی نہ بچا سکے۔ دونوں کی ایک ساتھ موت ہو گئی۔” #Irán #Israël #IranWar‌ #Netanyahu

فیکٹ چیک

DFRAC کی ٹیم نے تحقیق میں پایا کہ وائرل تصاویر جعلی ہیں اور انہیں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ ہماری ٹیم نے سب سے پہلے نیتن یاہو کی موت کے حوالے سے گوگل پر چند کلیدی الفاظ تلاش کیے، لیکن ہمیں کسی بھی معتبر مرکزی میڈیا ادارے کی طرف سے ان کی موت کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی۔ البتہ کچھ میڈیا رپورٹس میں ان کی حالیہ عوامی عدم موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔

Times of India کی ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک Tasnim News Agency نے نیتن یاہو کی حالیہ عوامی تقریبات میں عدم موجودگی، ان کی رہائش گاہ کے اردگرد سیکیورٹی میں اضافے اور سفارتی دوروں کے ملتوی ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی سلامتی کے بارے میں افواہوں کو مزید ہوا دی ہے۔ اسی طرح Economic Times کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی آخری عوامی موجودگی 9 مارچ کو ہوئی تھی، تاہم اس رپورٹ میں ان کی موت کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے۔

مزید تحقیق کے لیے ہم نے وائرل تصاویر کو اے آئی شناخت کرنے والے ٹولز Hive Moderation اور WasItAI کے ذریعے چیک کیا۔ نتائج سے واضح ہوا کہ دونوں تصاویر اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ہیں۔

اس کے بعد ہماری ٹیم نے ان تصاویر کو پوسٹ کرنے والے صارف Iran Times کے بارے میں بھی تحقیق کی۔ عوامی طور پر دستیاب معلومات کے مطابق یہ اکاؤنٹ ایران سے منسلک نہیں ہے بلکہ اسے پاکستان سے چلایا جا رہا ہے۔

وائرل تصاویر کی مزید جانچ کے لیے ہم نے اے آئی ماہر میانک شرما سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے تصاویر کا تجزیہ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ تصاویر حقیقی نہیں لگتیں بلکہ اے آئی سے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہیں۔ تجزیے کے دوران چہروں کی ساخت، جلد کی بناوٹ، اردگرد موجود فوجیوں کے ہاتھوں اور کپڑوں کے کناروں پر غیر معمولی دھندلاہٹ دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جسم کی پوزیشن اور سایوں کا انداز بھی قدرتی روشنی کے مطابق نہیں ہے۔ اس طرح کی بصری خامیاں اکثر اے آئی ٹولز سے بنائی گئی تصاویر میں نظر آتی ہیں۔

نتیجہ

DFRAC کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر بنیامین نیتن یاہو کی موت کے دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی تصاویر اے آئی سے تیار کردہ ہیں۔ لہٰذا صارفین کا یہ دعویٰ جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔