Burj Khalifa

فیکٹ چیک: برج خلیفہ پر میزائل حملے کی وائرل ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ ہے

Fact Check

Iran اور Israel-United States کے درمیان کشیدگی جاری ہے اور دونوں جانب سے حملوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے United Arab Emirates، Saudi Arabia، Bahrain، Oman، Kuwait اور Qatar میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے۔ اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے دنیا کی مشہور عمارت Burj Khalifa پر میزائل حملہ کیا، جس کے بعد عمارت میں شدید آگ لگ گئی۔

ایک صارف نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
“دبئی سے خبر آ رہی ہے کہ برج خلیفہ پر ایرانی میزائل حملہ ہوا ہے۔ تاہم یو اے ای حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے زیادہ تر حملوں کو ناکام بنا دیا، لیکن گرنے والے ملبے سے نقصان ہوا ہے۔”
#Iran #عاجل_الان #brujkhalifa #america

اسی طرح کئی دیگر صارفین بھی یہی دعویٰ کرتے ہوئے اس ویڈیو کو شیئر کر رہے ہیں۔

فیکٹ چیک:

DFRAC کی ٹیم کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ برج خلیفہ پر حملے کا دعویٰ غلط ہے اور وائرل ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ ہے۔ ہماری ٹیم نے سب سے پہلے ویڈیو کا تجزیہ کیا اور اسے اے آئی ڈیٹیکشن ٹول Hive Moderation پر چیک کیا۔ تجزیے کے نتائج سے واضح ہوا کہ برج خلیفہ میں آگ لگنے کی ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بنائی گئی ہے۔

مزید تحقیق کے لیے ہم نے Google پر کچھ متعلقہ کی ورڈز سرچ کیے۔ اس دوران ہمیں The Economic Times کی ایک رپورٹ ملی جس میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ برج خلیفہ پر کسی حملے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ مزید معلومات کے لیے ہم نے Dubai میں مقیم ماز احمد اور نوشاد انصاری سے بھی رابطہ کیا۔ دونوں نے وائرل ویڈیو کو جعلی قرار دیا اور بتایا کہ برج خلیفہ پر حملے یا پوری عمارت میں آگ لگنے جیسا کوئی واقعہ نہ دیکھا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

نتیجہ:

DFRAC کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر دبئی کے Burj Khalifa پر میزائل حملے اور شدید آگ لگنے کے دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو گمراہ کن ہے۔ اس طرح کے کسی حملے کی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔ لہٰذا سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ غلط ہے۔