Digital Forensic, Research and Analytics Center

اتوار, فروری 5, 2023
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

بی جے پی کے رہنماؤں نے ممبئی فلائی اوور کی تصویر کو گجرات کا بتا کر کیا شیئر، پڑھیں فیکٹ چیک

گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران تمام سیاسی پارٹیاں اور ان کے رہنما، بڑے بڑے وعدوں اور کاموں سے عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے (لبھانے)کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، بی جے پی کے رہنما اور سوشل میڈیا یوزرس کی طرف سے ایک گرافیکل پوسٹ تیزی سے شیئر کیا جا رہا ہے؛ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ موجودہ بی جے پی حکومت کے ذریعے گجرات میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا مظہر ہے۔

گرافک کو بی جے پی گجرات کے ویریفائیڈ ہینڈل @BJP4Gujarat نے کیپشن کے ساتھ شیئر کیا،’بھارتیہ جنتا پارٹی کا جدید ترین انفراسٹرکچر کے لیے عزم…

  #AgressarGujarat کا عزم

بی جے پی کے راجیہ سبھا ایم پی @AnavadiyaDinesh نے اسی دعوے کے ساتھ گرافک شیئر کیا ہے۔

گجرات کے کَچھ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ @VinodChavdaBJP نے بھی اسی طرح کے دعوے کے ساتھ تصویر شیئر کی ہے۔

اس کے علاوہ بی جے پی کے کئی دیگر سرکردہ رہنما اور یوزرس نے بھی اس گرافیکل پوسٹ کو اسی طرح کے کیپشن کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

فیکٹ چیک:

وائرل انفراسٹرکچر والی فلائی اوور کی تصویر کی سچائی کو جاننے کے لیے DFRAC ٹیم نے گوگل پر ریورس امیج سرچ کیا تو ہمیں ایسی ہی ملتی جلتی کئی تصویریں shutterstock.com ویب سائٹ پر ملیں، تصویر میں وائرل گرافیکل امیج کے ساتھ کئی مماثلتیں ہیں۔ تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے- ممبئی، مہاراشٹر، نومبر، 02 2014: تِلک نگر ممبئی، مہاراشٹر، بھارت، ایشیا میں سانتا کروز چیمبور لنک روڈ ملٹی لیئر فور لین ایلیویٹیڈ فلائی اوور کنکریٹ پل کا ایریل پَینورومِک کا منظر۔ 

علاوہ ازیں ہمیں alamy نامی ویب سائٹ پر بھی ایسی ہی بہت سی تصاویر ملیں۔

یہ تصویر  alamyکی جانب سے دو نومبر 2014 میں ڈینوڈیا فوٹوز کی جانب سے سانتا کروز چیمبور لنک روڈ فلائی اوور، ممبئی مہاراشٹر، بھارت، ایشیا‘ عنوان کے ساتھ اپلوڈ کیا گیا تھا۔ 

دونوں تصویروں میں مماثلتیں

نتیجہ:

DFRAC کے اس فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں اور سوشل میڈیا یوزرس کی جانب سے شیئر کی جا رہی فلائی اوور والی گرافیکل تصویر گجرات کی نہیں بلکہ آٹھ سال پرانی ہے، سانتا کروز چیمبور لنک روڈ فلائی اوور، ممبئی کی ہے، لہٰذا بی جے پی کے رہنماؤں اور سوشل میڈیا یوزرس کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔