سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو طالبات گلے میں زعفرانی گمچھا ڈالے ایک شخص کی پٹائی کر رہی ہیں۔ ویڈیو شیئر کرنے والے صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ عبدال نامی ایک نوجوان طالبات کا موبائل چھیننے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن طالبات نے ہمت دکھاتے ہوئے نہ صرف اسے پکڑ لیا بلکہ اس کی پٹائی بھی کی۔
اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اوشین جین نامی صارف نے لکھا، ’’زعفرانی کپڑے میں عبدال اسکول کی طالبہ کا موبائل چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ طالبات نے ہمت دکھاتے ہوئے اس کی مخالفت کی اور بھرپور مقابلہ کیا۔ پھر لڑکیوں نے اسے تھپڑوں سے خوب سبق سکھایا۔‘‘
اوشین جین نامی یہ صارف سوشل میڈیا پر مسلسل جعلی اور گمراہ کن معلومات شیئر کرتی ہے۔ ڈی فریک کی ٹیم اس سے قبل بھی اوشین جین کی جانب سے پھیلائی گئی کئی جعلی اور گمراہ کن معلومات کا فیکٹ چیک کر چکی ہے۔

اسی طرح ایس پی شرما نامی صارف نے بھی اس ویڈیو کو طالبات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعے سے جوڑتے ہوئے فرقہ وارانہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا۔ اس کے علاوہ کئی دیگر صارفین نے بھی اس ویڈیو کو عبدال یا کسی مسلمان شخص کی جانب سے طالبات سے موبائل چھیننے کے واقعے کے طور پر شیئر کیا۔

فیکٹ چیک:
ڈی فریک کی ٹیم نے تحقیقات میں پایا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ ملزم عبدال نہیں ہے، بلکہ اس کی شناخت پنجاب کے جالندھر کے رہنے والے منپریت سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے گوالیار کے پڑاؤ تھانہ علاقے کا ہے۔
ڈی فریک کی ٹیم نے اس واقعے کے حوالے سے پڑاؤ تھانہ انچارج شیلیندر بھارگوا سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم مسلمان نہیں ہے۔ ملزم کا نام منپریت سنگھ ولد جسپال سنگھ کور ہے اور وہ پنجاب کے جالندھر کا رہنے والا ہے۔
ہماری ٹیم نے وائرل ویڈیو کے کلیدی فریمز نکال کر گوگل لینس کی مدد سے ریورس امیج سرچ کی۔ اس دوران ہمیں اس واقعے سے متعلق آج تک، ای ٹی وی بھارت اور روزنامہ بھاسکر سمیت متعدد میڈیا رپورٹس ملیں۔
آج تک کی رپورٹ کے مطابق، مدھیہ پردیش کے گوالیار ضلع میں دو جڑواں بہنوں نے اپنی بہادری اور بے خوفی سے جرم کے خلاف مثال قائم کی۔ پھول باغ چوراہے پر موبائل چھین کر فرار ہونے والے ایک شخص کا دونوں بہنوں نے تقریباً 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اسکوٹی پر تعاقب کیا۔ چوراہے پر اسے گھیر کر اسکوٹی سے ٹکر ماری اور زمین پر گرنے کے بعد اسے پکڑ لیا۔ اس کے بعد دونوں نے سڑک پر ہی اس کی پٹائی کی۔ رپورٹ کے مطابق ملزم کی شناخت پنجاب کے جالندھر کے رہنے والے منپریت کے طور پر ہوئی، جو کام کے سلسلے میں گوالیار آیا تھا۔

ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پڑاؤ تھانہ علاقے میں موبائل چھین کر موٹر سائیکل سے فرار ہونے والے ملزم کو متاثرہ بہنوں نے تعاقب کرکے پکڑ لیا اور بعد میں اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے دونوں بہنوں کی بہادری پر ان کا اعزاز بھی کیا۔ تھانہ انچارج شیلیندر بھارگوا کے مطابق ملزم کا نام منپریت ہے، جو بنیادی طور پر پنجاب کا رہنے والا ہے اور گوالیار میں رہ کر کھانے کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔
روزنامہ بھاسکر کی رپورٹ میں بھی ملزم کا نام منپریت بتایا گیا ہے۔
ڈی فریک کی ٹیم نے اس واقعے کے سلسلے میں دوبارہ پڑاؤ تھانہ انچارج شیلیندر بھارگوا سے رابطہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملزم مسلمان نہیں ہے اور اس کا نام منپریت سنگھ ولد جسپال سنگھ کور ہے، جو پنجاب کے جالندھر کا رہنے والا ہے۔
نتیجہ:
ڈی فریک کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر کیا جانے والا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ طالبات سے موبائل چھیننے کا ملزم عبدال نہیں، بلکہ اس کی شناخت پنجاب کے جالندھر کے رہنے والے منپریت سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ پڑاؤ پولیس نے بھی ڈی فریک سے بات کرتے ہوئے وائرل دعوے کی تردید کی ہے۔
