سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک شخص کو ایک بزرگ کو سڑک پر گھسیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے سوشل میڈیا صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیو ہریانہ کے کروکشیتر کی ہے، جہاں غفار علی نامی درگاہ کے ایک خادم نے مندر کے پجاری یوگیراج کو صرف اس لیے بے رحمی سے مارا پیٹا کیونکہ مندر کی وجہ سے درگاہ پر عقیدت مند نہیں آ رہے تھے۔
اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دیپک شرما نامی صارف نے لکھا: "اس درندے کو بچنے نہیں دینا چاہیے… گرفتاری تک ری پوسٹ کرو ہندوؤں۔ مندر کے پجاری کو گھسیٹتا غفار علی… ہریانہ کے کروکشیتر میں ایک درگاہ کے ملا نے قریبی مندر کے پجاری کی ٹانگیں توڑ دیں، اس کے گلے میں پھندا ڈال کر گھسیٹتا ہوا لے گیا… کیونکہ مندر کی وجہ سے درگاہ پر لوگ نہیں آ رہے تھے…”

وائرل ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے مسٹر تیواری نامی صارف نے انگریزی میں کیپشن لکھا، جس کا اردو ترجمہ یہ ہے: "اس درندے کو ہرگز معاف نہیں کیا جانا چاہیے… گرفتاری تک اسے ری پوسٹ کریں، ہندوؤں… ہریانہ کے کروکشیتر میں درگاہ کے ملا غفار علی نے مندر کے پجاری کی ٹانگیں توڑ دیں، ان کے گلے میں پھندا ڈال کر انہیں جانور کی طرح گھسیٹا… صرف اس لیے کہ مندر کی وجہ سے اس کی درگاہ پر آنے والی بھیڑ کم ہو رہی تھی… ہندوؤں جاگ جاؤ… یہ درندہ پھانسی کا مستحق ہے…”

سناتنی ردھی نامی صارف نے بھی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ: "ہریانہ کے کروکشیتر میں مندر کی وجہ سے درگاہ پر لوگ نہیں آ رہے تھے، اس لیے غفار علی نے مندر کے پجاری کو بری طرح مارا، ان کی ٹانگیں توڑ دیں، پھر گلے میں پھندا ڈال کر گھسیٹتا ہوا باہر لے آیا۔ میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ یہ لوگ سڑی ہوئی ذہنیت والے اسور ہیں، ان کا علاج ضروری ہے۔ زبیر، آرفہ تائی اور سارے لیفٹسٹ اس حرکت پر خاموش ہیں…”

اس کے علاوہ کئی دیگر سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس ویڈیو کو غفار علی کی جانب سے مندر کے پجاری پر حملے کا بتاتے ہوئے شیئر کیا ہے۔ ان ویڈیوز کو یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وائرل ویڈیو کی جانچ میں پایا کہ کروکشیتر میں پجاری یوگیراج پر حملے کا ملزم غفار علی نہیں ہے۔ پولیس نے اس حملے کے الزام میں پنکج سینی کو گرفتار کیا ہے۔ ڈی ایف آر اے سی کو کروکشیتر کے تھانیسر صدر تھانے کے انچارج رندھیر سنگھ نے بتایا کہ متاثرہ پجاری اور ملزم دونوں ہندو ہیں۔ ملزم پنکج سینی ولد جوگیندر سینی ہے۔
ہماری ٹیم نے جانچ کے لیے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کو کی فریمز میں تبدیل کیا اور پھر ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں اس واقعے سے متعلق امر اجالا، ریپبلک ورلڈ اور دینک بھاسکر سمیت کئی میڈیا رپورٹس ملیں۔
امر اجالا کی رپورٹ کے مطابق، "گاؤں اڑھونی میں 80 سالہ پجاری یوگیراج کو اسی گاؤں کے رہائشی پنکج نامی شخص نے شیو ناتھ مندر کے قریب بے رحمی سے مارا پیٹا۔ ملزم نے لاٹھی سے حملہ کر کے پجاری کو نیم مردہ کر دیا اور ان کے گلے میں کپڑا ڈال کر گھسیٹتے ہوئے چوراہے پر پھینک دیا۔ یہ واقعہ جمعرات کی صبح تقریباً چار بجے پیش آیا۔”

ریپبلک ورلڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ: "مرکزی ملزم پنکج، اندر نامی ایک اور شخص کے ساتھ مندر پہنچا۔ ابتدا میں ہونے والی تلخ کلامی جلد ہی تشدد میں بدل گئی۔ پنکج نے مبینہ طور پر بزرگ پجاری کو گالیاں دیں، پھر لاٹھی منگوا کر ان پر بار بار حملہ کیا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ پجاری کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے یوگیراج کے گلے میں کپڑا لپیٹ کر انہیں پورے گاؤں میں گھسیٹا اور بعد میں ایک چوراہے پر پھینک دیا۔ اس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گئے۔ زخمی پجاری تقریباً دو گھنٹے تک سڑک کنارے پڑے رہے، بعد میں دیہاتیوں نے انہیں دیکھا اور فوری طور پر لوک نائک جے پرکاش (ایل این جے پی) اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ان کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔”
دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق، مندر میں عقیدت مندوں کی تعداد بڑھنے اور درگاہ پر آنے والوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے پنکج سینی ناراض تھا، جس کے بعد اس نے پجاری یوگیراج پر حملہ کیا۔
مزید معلومات کے لیے ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے تھانیسر صدر پولیس اسٹیشن کے انچارج رندھیر سنگھ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے وائرل دعوے کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ پجاری اور ملزم دونوں ہندو ہیں اور ملزم پنکج سینی ولد جوگیندر سینی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس واقعے کا کسی بھی فرقہ وارانہ تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ کروکشیتر کے اڑھونی گاؤں میں شیو ناتھ مندر کے پجاری یوگیراج پر حملے کا ملزم پنکج سینی ہے، جسے سوشل میڈیا پر غفار علی بتا کر گمراہ کن دعویٰ کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس واقعے میں ملزم پنکج سینی اور اس کی بیوی دونوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ لہٰذا سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔
