سوشل میڈیا پر اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اور حیدرآباد کے رکنِ پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کے حوالے سے ایک دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے بھارت میں مسلمانوں کو غیر محفوظ بتاتے ہوئے اقوامِ متحدہ کو ایک خط لکھا، جس میں کہا گیا:
“ہندوستان میں مسلمان محفوظ نہیں ہیں۔”
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس خط کے جواب میں اقوامِ متحدہ نے اویسی سے کہا:
“جہاں محفوظ ہو، وہاں چلے جاؤ۔”
اس دعوے کے ساتھ پوسٹ شیئر کرتے ہوئے منوج سریواستو نامی صارف نے لکھا:
“اب بتاؤ اویسی پاکستان جاؤ گے یا بنگلہ دیش”

وائرل پوسٹ کارڈ کو شیئر کرتے ہوئے دلیپ کمار سنگھ نامی ایک اور صارف نے لکھا:
“اویسی کی بتی گل”

فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ وائرل دعویٰ فیک ہے۔ اسدالدین اویسی نے اقوامِ متحدہ کو ایسا کوئی خط نہیں لکھا۔ وائرل دعوے کی جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے گوگل پر “اسدالدین اویسی کا اقوامِ متحدہ کو خط” سرچ کیا۔ ہمیں حالیہ دنوں کی ایسی کوئی معتبر میڈیا رپورٹ نہیں ملی، جس میں اویسی کے اقوامِ متحدہ کو خط لکھنے کا ذکر ہو۔ اگر اویسی نے ایسا کوئی خط لکھا ہوتا تو اس کی میڈیا کوریج ضرور ہوتی۔

مزید جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے اے آئی ایم آئی ایم اور اسدالدین اویسی کے سوشل میڈیا ہینڈلز کو بھی دیکھا۔ وہاں بھی ہمیں ایسا کوئی خط یا اطلاع نہیں ملی، جس میں اویسی کی جانب سے اقوامِ متحدہ کو خط لکھنے کی بات کہی گئی ہو۔

اس کے بعد اس معاملے پر مزید معلومات کے لیے ہماری ٹیم نے اے آئی ایم آئی ایم چیف اسدالدین اویسی سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے ایسا کوئی خط اقوامِ متحدہ کو لکھا ہے؟ اویسی نے اس دعوے کو فیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “بے بنیاد بات” ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر کیا گیا دعویٰ فیک ہے۔ نہ تو اے آئی ایم آئی ایم چیف اسدالدین اویسی نے اقوامِ متحدہ کو کوئی خط لکھا ہے اور نہ ہی اقوامِ متحدہ کی طرف سے انہیں کسی محفوظ ملک جانے کا جواب دیا گیا ہے۔ لہٰذا سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ جھوٹا ہے۔

