سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ مسلم نوجوان ایک جگہ پر ڈی جے بند کرنے کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کو کئی صارفین نے فرقہ وارانہ رنگ دے کر شیئر کیا ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ ایک ہندو خاندان کی شادی کے دوران ڈی جے بند کروانے کے لیے مسلم نوجوان وہاں پہنچے تھے۔
ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے “پراتھنا سنگھ” نامی صارف نے لکھا:
“حد کر دی، نمازی ہندو شادی میں گانا بجانا بند کروانے پہنچ گئے۔ جب اتنا ہی حرام ہے گانا بجانا، تو جاؤ اُن مسلم فلمی ستاروں کو روکو، گلوکاروں کو روکو۔ اگر ہمت ہے تو اُن لوگوں کو روک کر دکھاؤ۔ ان بیچاروں کی شادی خراب کرنے کیوں پہنچ گئے؟”

وہیں “سناتنی ندیم” نامی ایک اور صارف نے لکھا:
“جہاں ہماری آبادی بڑھی وہاں شریعت نافذ، ہماری ہمت دیکھو کہ ہم کھلے عام ہندوؤں کی شادی میں ڈی جے بند کروا سکتے ہیں۔ کیا کسی ہندو میں اتنی ہمت ہے کہ اذان بند کروا سکے؟ یہی دین اور ایمان کی طاقت ہے، واللہ اعلم۔”

اس کے علاوہ کئی دیگر صارفین نے بھی اس ویڈیو کو اسی دعوے کے ساتھ شیئر کیا، جسے یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ اس معاملے میں کوئی فرقہ وارانہ زاویہ نہیں ہے۔ دراصل یہ معاملہ خود مسلم برادری سے متعلق ہے۔ ویڈیو کے کی فریمز کو ریورس امیج سرچ کرنے پر ہمیں یہ ویڈیو “تبلیغی شان” نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 28 مارچ کو پوسٹ ملا۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شادی والے گھر پہنچتے ہی مسلم نوجوان سلمان نامی شخص سے خیریت دریافت کرتے ہیں، جس کے بعد ڈی جے بند کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔
جانچ کے دوران ہم نے یہ بھی پایا کہ اس انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک اور ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے، جس میں اس واقعے کی مکمل تفصیل دی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ یہ معاملہ علی گڑھ ضلع کے شاہ جمال علاقے کی گلی نمبر 5 کا ہے۔ جس گھر پر ڈی جے بند کروانے کے لیے لوگ گئے تھے، وہ ایک مسلم خاندان کا گھر تھا اور وہاں محمد شہنواز ولد چھوٹے خان کا نکاح تھا۔
مزید جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے “تبلیغی شان” نامی فیس بک پیج پر موجود فون نمبر پر رابطہ کیا۔ شان محمد نے ہمیں بتایا کہ ان کی بیداری مہم صرف مسلم خاندانوں تک محدود رہتی ہے۔ انہوں نے وائرل ویڈیو کے حوالے سے بتایا کہ جس گھر پر ڈی جے بند کرنے کی اپیل کرنے لوگ گئے تھے، وہ مسلم خاندان ہی تھا۔ شاہ جمال کی گلی نمبر 5 میں چھوٹے خان کے بیٹے محمد شہنواز کی شادی تھی۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ویڈیو میں کوئی فرقہ وارانہ معاملہ نہیں ہے۔ مسلم نوجوانوں نے ڈی جے بند کرنے کی اپیل ایک مسلم خاندان سے کی تھی، جسے ہندو خاندان بتا کر گمراہ کن دعویٰ کیا گیا۔

