سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی نوجوان ایک شخص پر بازار کے درمیان چاقوؤں سے حملہ کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہندو لڑکی سے محبت کرنے پر ایک مسلم نوجوان کو ہندوتوا ہجوم نے قتل کر دیا۔
اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا:
“دل دہلا دینے والا۔ بھارت میں ہندوتوا ہجوم نے ایک اور مسلم شخص کو سرِعام بے رحمی سے چاقو مار کر قتل کر دیا۔ مودی کا ‘ہندو راشٹر’ اب اقلیتوں کے لیے ایک کھلی شکارگاہ بنتا جا رہا ہے۔”
(ترجمہ)

ایک اور صارف نے لکھا:
“ایک مسلم شخص کو، ایک ہندو لڑکی کے ساتھ تعلق ہونے کے شبہے میں — جسے وہ ‘لو جہاد’ کہتے ہیں — ایک عوامی مقام پر ہندوتوا ہجوم نے بے رحمی سے چاقو مار کر قتل کر دیا۔”
( ترجمہ)

اس کے علاوہ کئی دیگر صارفین نے بھی اس ویڈیو کو اسی دعوے کے ساتھ شیئر کیا، جسے یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔ اس واقعے میں “لو جہاد” کا کوئی زاویہ نہیں ہے اور مقتول نوجوان کا نام روشن سنگھ تھا، جو مسلمان نہیں بلکہ ہندو تھا۔ اس واقعے کے حوالے سے ہمیں 6 نومبر 2025 کی اے بی این، پنجاب کیسری اور “دی نیوز منٹ” سمیت کئی میڈیا رپورٹس ملیں، جن میں مقتول کا نام روشن سنگھ (25 سال) بتایا گیا ہے۔
ان میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تلنگانہ کے جگدگیرگٹہ میں ہسٹری شیٹر روشن سنگھ پر ایک دوسرے ہسٹری شیٹر بالیشور ریڈی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سرِعام چاقو سے حملہ کیا، جس کے بعد سکندرآباد کے گاندھی اسپتال میں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ کئی میڈیا رپورٹس میں اس واقعے کے پیچھے مالی لین دین کو وجہ بتایا گیا ہے۔

مزید جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے جگدگیرگٹہ تھانے کے انسپکٹر بی وینکٹیشم سے رابطہ کیا۔ انہوں نے “لو جہاد” یا ہندو لڑکی سے محبت کرنے پر مسلم نوجوان کے قتل کے دعوؤں کو جعلی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقتول روشن سنگھ اور ملزم بالیشور ریڈی دونوں ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں کے خلاف کئی مقدمات درج تھے اور روشن سنگھ کے قتل کے پیچھے لین دین اور انا کا ٹکراؤ بھی ایک وجہ تھا۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ اس واقعے میں “لو جہاد” یا ہندو لڑکی سے محبت کرنے پر مسلم نوجوان کے قتل کا کوئی زاویہ نہیں ہے۔ مقتول کا نام روشن سنگھ تھا، جو ہندو تھا۔ لہٰذا صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔

