Bangladesh teacher video

فیکٹ چیک: بنگلہ دیش میں ہندو خاتون ٹیچر کے ساتھ مارپیٹ کا گمراہ کن دعویٰ کیا گیا

Fact Check Featured Misleading

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جم کر وائرل ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بازار میں کئی نوجوانوں کی جانب سے ایک خاتون کے ساتھ مارپیٹ کی جا رہی ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے یوزرس دعویٰ کر رہے ہیں کہ بنگلہ دیش میں ایک دلت ہندو خاتون ٹیچر کے ساتھ مسلم انتہا پسندوں کی جانب سے مارپیٹ کی گئی۔

**اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے یَتی شرما نامی یوزر نے لکھا، **‘بنگلہ دیش میں دلت ہندو خاتون ٹیچر پر مسلم کٹر پنتھیوں کی جانب سے حملہ۔’

Link

**وہیں ایک دیگر یوزر دیپک شرما نے وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، **‘دلت مسلم اتحاد۔ اونچی ذات کے مسلم بچے کو پیاس لگنے پر اپنا پانی پلانے والی دلت ٹیچر کو سڑکوں پر دوڑا دوڑا کر پیٹا… معاملہ بنگلہ دیش کے ڈھاکہ کے کفنّا علاقے کا۔ جے جے بھیم + میم… جیو شیروں’

Link

اس کے علاوہ کئی دیگر یوزرس کی جانب سے بھی اس ویڈیو کو بنگلہ دیش میں ہندو ٹیچر کے ساتھ مسلمانوں کی جانب سے مارپیٹ کا بتا کر شیئر کیا گیا ہے، جسے یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

فیکٹ چیک:

**ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ متاثرہ خاتون ہندو نہیں ہیں، بلکہ وہ مسلمان ہیں۔ متاثرہ خاتون ٹیچر بھی نہیں ہیں۔ وہیں، بنگلہ دیش کے فیکٹ چیکر شوہانور رحمان نے بتایا کہ، **‘متاثرہ خاتون ہندو ٹیچر نہیں ہیں۔ وہ ایک مسلم خاتون اور بزنس انٹرپرینیور ہیں، جن پر بزنس سے متعلق تنازع کو لے کر حملہ کیا گیا تھا۔’

ہم نے سب سے پہلے ویڈیو کو کی-فریمز میں کنورٹ کرکے ریورس امیج سرچ کیا۔ ہمیں وائرل ویڈیو کے حوالے سے بنگلہ دیش کے میڈیا اداروں دی ڈیلی اسٹار، منوبکانتھا اور جاگو نیوز/۲۴ کی رپورٹس ملیں، جن میں متاثرہ خاتون کی شناخت زکیہ سلطانہ کے طور پر ہوئی ہے۔ دی ڈیلی اسٹار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، ‘راج باری میں ایک کاروباری تنازع کے دوران ایک خاتون انٹرپرینیور پر سرعام حملہ کیا گیا، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس نے وسیع پیمانے پر توجہ حاصل کی۔ ویڈیو میں دکھائی دے رہا ہے کہ پولیس خاتون کو جائے وقوعہ سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، اسی دوران دو آدمی اسے لات مار رہے ہیں۔ بعد میں پولیس اسے سکیورٹی کے لیے راج باری صدر پولیس اسٹیشن لے گئی۔ خاتون کی شناخت زکیہ سلطانہ کے طور پر ہوئی، جو راج باری قصبے کے کپور بازار علاقے میں قادریہ مارکیٹ میں واقع آستھا پوشاک شلپا کی مالکن ہیں۔’ (اردو ترجمہ)

جاگو نیوز/۲۴ کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے، ‘راج باری کپور بازار کے قادریہ سپر مارکیٹ کی تیسری منزل پر زکیہ کی آستھا فیشن نام کی کپڑوں کی دکان ہے۔ حال ہی میں ان کا اپنی ایک خاتون ملازمہ، شاجناز پروین برشتی سے تنازع ہوا تھا۔ زکیہ کئی خواتین اور ایک تشہیری مائیکروفون کے ساتھ بازار گئی، بظاہر تنازع کے سلسلے میں۔ اس اقدام سے کچھ تاجر ناراض ہو گئے، جنہوں نے بعد میں زکیہ سے رابطہ کیا اور ان سے اس طرح کی سرگرمیوں سے دور رہنے کی درخواست کی۔ ایک وقت میں بحث شروع ہو گئی اور کشیدگی بڑھ گئی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور صورت حال کو قابو میں کیا۔ بعد میں وہ زکیہ کو بازار کی مرکزی سڑک کی طرف لے گئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سڑک کے کنارے مختلف مقامات پر کھڑے کئی لوگوں نے اسے کئی بار لات ماری۔’ (اردو ترجمہ)

منوبکانتھا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، ‘راج باری میں خاتون انٹرپرینیور زکیہ سلطانہ کے ساتھ سرعام مارپیٹ اور ہراسانی کے معاملے میں ابھی تک کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، پولیس نے بتایا کہ واقعے میں ملوث لوگوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ (اردو ترجمہ)

وہیں ہماری ٹیم نے اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے بنگلہ دیشی فیکٹ چیکر شوہانور رحمان سے رابطہ کیا۔ شوہانور نے بتایا، ‘وہ خاتون ہندو ٹیچر نہیں ہیں۔ وہ ایک مسلم خاتون ہیں اور بزنس انٹرپرینیور ہیں، جن پر بزنس سے متعلق تنازع کو لے کر حملہ کیا گیا تھا۔ انہیں ہندو ٹیچر کے طور پر پیش کرنا ایک جھوٹی کہانی پھیلانے کی جان بوجھ کر کی گئی کوشش تھی۔’

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو مذہبی اینگل دیتے ہوئے گمراہ کن دعویٰ کیا گیا ہے۔ متاثرہ خاتون کی شناخت زکیہ سلطانہ کے طور پر ہوئی ہے اور ان کا تنازع اپنی ہی ملازمہ شاجناز پروین کے ساتھ ہوا تھا۔ متاثرہ خاتون ہندو نہیں ہیں۔

دعوے کا جائزہبنگلہ دیش میں ہندو خاتون ٹیچر کو پیٹا گیا
دعویٰ کس نے کیاسوشل میڈیا یوزرس
فیکٹ چیکگمراہ کن

ہمارے ذرائع:

  1. دی ڈیلی اسٹار کی نیوز کوریج، اشاعت ۳۰ اگست ۲۰۲۶
  2. جاگو نیوز۲۴ کی نیوز کوریج، اشاعت ۳۰ اگست ۲۰۲۶
  3. منوبکانتھا کی نیوز کوریج، اشاعت ۱ ستمبر ۲۰۲۶
  4. بنگلہ دیشی فیکٹ چیکر شوہانور رحمان کا ڈی ایف آر اے سی کو دیا گیا بیان