سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک مسلمان ہوٹل کا مالک کھانا پیش کرنے سے پہلے اس میں تھوک رہا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کئی صارفین مسلمانوں پر تنقید کر رہے ہیں اور نازیبا تبصرے کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر منوج سریواستو نامی ایک صارف نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: “دیکھو ان سانپوں کو جنہیں ہم نے پالا ہے۔ اگر اسے نفرت پھیلانا کہتے ہو تو ٹھیک ہے، ہم ان سوروں سے نفرت کریں گے۔ اگر تمہیں تھوک اور گندگی ملا کھانا پسند ہے تو روز کھاؤ۔ یہ کھانا سیکولر کانگریس انڈیا کا تحفہ ہے۔

اس کے علاوہ دیگر کئی صارفین جیسے “ یوگی آدتیہ ناتھ فین (ڈیجیٹل وارئیر)”، “گوڈسے کا بھکت” اور “ونود کمار سنگھ رائکوار” نے بھی اسی دعوے کے ساتھ ویڈیو شیئر کی۔
فیکٹ چیک: وائرل ویڈیو کی جانچ کے دوران ڈی ایف آر اے سی ٹیم نے پایا کہ یہ کسی حقیقی ہوٹل کی ویڈیو نہیں ہے، بلکہ اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ باریک بینی سے دیکھنے پر ہوٹل کے سائن بورڈ پر کچھ ایسے الفاظ نظر آئے جو کسی بھی بھارتی زبان سے تعلق نہیں رکھتے۔ اس طرح کا بے معنی یا غیر واضح متن عموماً مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ہوٹل والا گاہک کے سامنے پلیٹ میں تھوک کر کھانا پیش کرتا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ گاہک اسے قبول بھی کر لیتا ہے۔ عام حالات میں کوئی بھی گاہک ایسا رویہ اختیار نہیں کرے گا۔

مزید تصدیق کے لیے ٹیم نے اس ویڈیو کو مختلف مصنوعی ذہانت جانچنے والے ٹولز جیسے ہیو موڈریشن، ڈیٹیکٹ ویڈیو، اور ان ڈیٹیکٹیبل کے ذریعے جانچا۔ تینوں ٹولز کے نتائج کے مطابق 70 فیصد سے زیادہ امکان ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے۔

اسی دوران، تفصیلی معلومات کے لیے مصنوعی ذہانت کے ماہر میانک شرما سے بھی رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ویڈیو کسی حقیقی واقعے کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز یا ایڈیٹنگ کے ذریعے بنائی گئی ہے۔ ان کے مطابق ویڈیو میں اشیاء کی حرکت ہموار نہیں بلکہ تیرتی ہوئی یا اچانک بدلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جو ایسی ویڈیوز کی ایک عام خامی ہے۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہے اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا صارفین کی جانب سے کیے گئے تمام دعوے غلط اور گمراہ کن ہیں۔

