ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (SNSC) کے سربراہ علی لاریجانی نے چند دن پہلے دعویٰ کیا تھا کہ کئی امریکی فوجیوں کو ایران میں پکڑ لیا گیا ہے۔ تاہم امریکہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے جس کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے گرفتار کیے گئے امریکی فوجیوں کی ویڈیو جاری کی ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی جھنڈے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر کے ساتھ کھڑے ایرانی فوجیوں کی تحویل میں کئی امریکی فوجی گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے ہیں۔
اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا:
“Breaking News.. امریکہ کے چوہے جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں، ایرانیوں کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہیں۔ یہ ہے ایران اور اسلام کی طاقت…”
#Iran #IranWar #IsraelIranConflict’
اس کے علاوہ بھی کئی دیگر صارفین نے اس ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا کہ ایران نے گرفتار امریکی فوجیوں کی ویڈیو جاری کی ہے۔
فیکٹ چیک:
DFRAC کی ٹیم نے تحقیقات میں پایا کہ وائرل ویڈیو حقیقی نہیں بلکہ اے آئی سے تیار کردہ ہے۔ جانچ کے دوران ہمیں ویڈیو میں کئی تضادات نظر آئے۔ مثال کے طور پر ویڈیو کے آغاز میں دو ایرانی جھنڈے نظر آتے ہیں، لیکن اگلے ہی لمحے ایک جھنڈا اچانک غائب ہو جاتا ہے۔ ایک اور خامی یہ ہے کہ ویڈیو میں دکھائے گئے ایرانی جھنڈے کے اوپر سبز پٹی موجود نہیں ہے، جبکہ ایران کے جھنڈے میں تین رنگ ہوتے ہیں: اوپر سبز، درمیان میں سفید اور نیچے سرخ۔

مزید تحقیقات کے لیے ہم نے وائرل ویڈیو کو اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز Hive Moderation اور Deepfake-O-Meter کے ذریعے جانچا۔ Hive Moderation کے مطابق یہ ویڈیو 99 فیصد اے آئی سے تیار کردہ ہے۔ جبکہ Deepfake-O-Meter کے جدید ٹول AVSRDD (2025) کے ذریعے کی گئی جانچ میں نتیجہ سامنے آیا کہ اس ویڈیو کے 98.7 فیصد اے آئی سے تیار ہونے کے امکانات ہیں۔

اس ویڈیو کے بارے میں مزید جانچ کے لیے ہم نے اے آئی ماہر میانک شرما سے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق ویڈیو میں کئی بصری بے قاعدگیاں نظر آتی ہیں، جیسے بعض فوجیوں کی جسمانی حرکات اور تاثرات غیر فطری معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پس منظر اور حرکت میں بھی یکسانیت نہیں ہے، جو اس بات کا مضبوط ثبوت ہے کہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔
نتیجہ:
DFRAC کے فیکٹ چیک سے واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ ہے، جسے ایران کی جانب سے گرفتار امریکی فوجیوں کے گمراہ کن دعوے کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔ لہٰذا صارفین کا یہ دعویٰ غلط ہے۔


