
© UNICEF زلزلے سے متاثرہ میانمار کا علاقہ۔
میانمار میں آنے والے شدید زلزلوں نے وسطی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے جس کے نتیجے ملک کو پہلے سے درپیش انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
ملک میں امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، 7.7 اور 6.4 کی شدت سے آنے والے زلزلوں میں اب تک 2,000 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ ممکنہ طور پر بہت سے لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں۔
میانمار میں ‘اوچا’ کے رابطہ کار مارکو لیوگی کورسی نے جانی نقصان پر دکھ کا اطہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار متاثرہ مقامات پر لوگوں کی جان بچانے اور انہیں ضروری مدد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
ہنگامی امدادی کارروائیاں
میانمار کے شہر منڈلے اور سیگانگ کے قریب آنے والے اس زلزلے نے باگو، میگوے، دارالحکومت نے پی ڈا اور ریاست شن کے بعض حصوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان جگہوں پر ہسپتالوں میں زخمیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ زلزلے کے نتیجے میں نقل و حمل کے راستے اور مواصلاتی رابطے بھی منقطع ہو گئے ہیں۔ ہزاروں متاثرین کھلی جگہوں پر پڑے ہیں جو زلزلے کے مابعد اثرات کے خوف کی وجہ سے اپنے گھروں کو واپس جانے سے گریزاں ہیں۔
اقوام متحدہ کی سہولت سے تقریباً 20 ممالک پر مشتمل امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے لوگوں کی تلاش کے لیے میانمار میں پہنچ رہی ہیں۔ ان کے پاس کھوجی کتے بھی موجود ہیں جو تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے زندہ لوگوں کی تلاش میں مدد دیں گے۔ لاکھوں ڈالر امداد بھی ملک میں پہنچائی جا رہی ہے جہاں 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی کے باعث لاکھوں پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں۔
انسانی بحران میں اضافہ
رابطہ کار نے کہا ہے کہ میانمار میں زلزلے سے پہلے بھی تقریباً دو کروڑ لوگوں کو انسانی امداد کی اشد ضرورت تھی۔ اس آفت نے ملک میں انسانی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ملک میں اقوام متحدہ کی امدادی ٹیم دیگر اداروں، مقامی حکام اور فلاحی تنظیموں کے تعاون سے امدادی ضروریات کا جائزہ لینے میں مصروف ہے۔ اس ضمن میں خواتین، بچوں، معمر لوگوں اور جسمانی معذور افراد کی ضروریات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے جو ایسی آفات میں غیرمتناسب طور سے متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نےکہا ہے کہ فوری امدادی کارروائیوں کے علاوہ یہ بحران بحالی اور ایسے اقدامات پر سرمایہ کاری کو مزید بہتر بنانے کی ہنگامی ضرورت کو واضح کرتا ہے جن کی بدولت لوگ مستقبل میں قدرتی آفات کا بہتر طور سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔

بروقت مدد کی ضرورت
اقوام متحدہ نے زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے ابتدائی طور پر 15 ملین ڈالر کے ہنگامی امدادی وسائل مہیا کیے ہیں۔ ملک میں طبی ٹیمیں، پناہ کا سامان، پانی اور صحت و صفائی کی سہولیات پہنچانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ پہلے سے ذخیرہ شدہ امدادی سامان بھی متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔
مارکو لیوگی کورسی نے کہا ہے کہ زلزلے سے بری طرح متاثرہ شہر منڈلے میں اقوام متحدہ کے امدادی اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہیں جو انصرامی مسائل کے باوجود متاثرین تک پہنچنے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ بحران میں اضافہ روکنے کے لیے بروقت مدد کی فراہمی بہت ضروری ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے بتایا ہے کہ اس نے زلزلے سے بری طرح متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ لوگوں کو تیار کھانا پہنچانے کی منصوبہ بندی کی ہے جبکہ آئندہ ماہ تقریباً آٹھ لاکھ لوگوں کو خوراک کے لیے نقد امداد دی جائے گی۔
لڑائی بند کرنے کا مطالبہ
میانمار کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ جولی بشپ نے کہا ہے کہ ادارہ اس مشکل گھڑی میں ملک کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ زلزلے نے عوام کو درپیش شدید مشکلات مزید عیاں کر دی ہیں اور انہیں مزید تکالیف سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو وسیع تر ملکی بحران پر متواتر توجہ دینا ہو گی۔
انہوں نے حکومت اور حزب اختلاف کی فورسز سے لڑائی بند کرنے اور انسانی امداد کی بلارکاوٹ اور محفوظ رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوجی کارروائی جاری رہنے سے مزید زندگیوں کے ضیاع اور امدادی کارروائیوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
جولی بشپ نے کہا ہے کہ وہ ‘اوچا’ کے سربراہ ٹام فلیچر اور ملک میں ادارے کی ٹیم کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں جو اقوام متحدہ کے علاقائی اور بین الاقوامی نیٹ ورک کے تعاون سے ہمسایہ ممالک اور دیگر کی شراکت میں کام کر رہے ہیں۔