
فیکٹ چیک: کیا سعودی ولی عہد نے خواتین کو مردوں کی اجازت کے بغیر جو چاہیں پہننے کی اجازت دے دی ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ دوبارہ گردش کر رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی خواتین کو یہ آزادی دے دی ہے کہ وہ اپنے شوہر یا بھائی کی اجازت کے بغیر جو چاہیں پہن سکیں۔
مارچ 2025 کو ایکس (ٹوئٹر) یوزر @realMaalouf نے شہزادہ اور سعودی ماڈل رومی القثانی، جو گزشتہ سال مس یونیورس 2024 میں حصہ لے چکی ہیں، یوزر نے اس تصاویر کے ساتھ یہ دعویٰ شیئر کیا۔ پوسٹ میں لکھا تھا:
"شہزادہ محمد بن سلمان: اب سے سعودی عرب کی خواتین مردوں کی اجازت کے بغیر جو چاہیں پہن سکتی ہیں۔”
31 مارچ 2025 تک اس پوسٹ کو 44 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، 8,700 سے زیادہ ری پوسٹس اور 88,000 سے زائد لائکس مل چکے ہیں۔

اسی طرح ایک اور یوزر @RadioEuropes نے بھی 31 مارچ 2025 کو اسی طرح کا دعویٰ کیا۔

فیکٹ چیک
ڈی ایف آر اے سی ٹیم کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے، کیونکہ سعودی شہزادے کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا ہے۔
"Prince Salman Saudi Arabia Women Dressing” کے الفاظ پر گوگل سرچ سے معلوم ہوا کہ سعودی ولی عہد نے مارچ 2018 میں سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی عرب میں خواتین کے لباس کے موضوع پر بات کی تھی۔
انٹرویو میں انہوں نے شریعت کے مطابق خواتین سے "معقول، باعزت لباس پہننے” کی بات کی تھی، نہ کہ جو چاہیں پہننے کی آزادی دی تھی۔
روئٹرز اور ڈی ڈبلیو سمیت کئی معتبر میڈیا آؤٹ لیٹس نے اس انٹرویو کی رپورٹنگ کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ سعودی وزیر اعظم نے بادشاہت کے ثقافتی اصولوں اور روایات پر روشنی ڈالی تھی۔

2018 میں ہوئے اس انٹرویو میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا:
"قوانین بہت واضح ہیں اور شریعت کے قوانین میں درج ہیں کہ خواتین معقول، باعزت لباس پہنیں، جیسے مرد پہنتے ہیں۔ تاہم، اس میں خاص طور پر سیاہ عبایہ یا سیاہ حجاب کی وضاحت نہیں ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر خواتین پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ کس قسم کا معقول اور باعزت لباس پہننا چاہتی ہیں۔”
نتیجہ
لہٰذا ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کو مردوں کی اجازت کے بغیر جو چاہیں پہننے کی اجازت نہیں دی ہے، وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔ اگرچہ شہزادہ نے 2018 کے انٹرویو میں خواتین کے لباس کے بارے میں بات کی تھی، لیکن انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ خواتین کو شریعت کے مطابق "معقول، باعزت لباس” پہننا چاہیے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ خواتین جو چاہیں پہن سکتی ہیں۔ اس دعوے کی تائید میں کوئی حالیہ ثبوت یا سرکاری اعلان دستیاب نہیں ہے۔
تجزیہ: گمراہ کن