Digital Forensic, Research and Analytics Center

پیر, نومبر 28, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

ہندو تنظیموں نے اسکولوں میں دعا کے بجائے ’ہندو بھجن‘ گانے کا مطالبہ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

سوشل میڈیا اکاؤنٹ، مرصد مسلمي الهند (@India__Muslim) مسلسل ہندوستان...

دہلی میں دو مسلمانوں نے ایک ہندو لڑکے کو کیا قتل؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو...

کیا پاکستان نےکیا بلوچستان کے خلاف اعلان جنگ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

پاکستان اور بلوچستان کے مابین جنگ کے حوالے سے...

فیکٹ چیک: کیا  حکومتِ ہند 3000 مساجد کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہو رہا ہے...

نربھیا کیس میں سب کو پھانسی ہوئی لیکن ایک مجرم محمد افروز بچ گیا؟ پڑھیں فیکٹ چیک 

سوشل میڈیا سائٹس پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نربھیا کیس کے تمام قصورواروں کو پھانسی کی سزا ہوئی مگر جس نے سب سے زیادہ بربرتا  کی تھی، اس کا نام محمد افروز ہے اور اسے نابالغ ہونے کے سبب چھوڑ دیا گیا۔

سیوا بھارت نیوز نے فیس بک پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے پوسٹ کیا،’سب کو پھانسی ہوئی لیکن ایک راکشس (خبیث) بچ گیا، “#محمد_افروز” جس کو اروند کیجریوال نے ایک “سلائی مشین” اور 10،000 روپے دیے تھے، جس نے نربھیا کے ساتھ اتنا گندے طریقے سے جنسی زیادتی کی وہ نابالغ کیسے؟؟؟؟ کیونکہ محمد افروز اےا ے پی کے رکن اسمبلی مسلم وقف بورڈ کے دہلی کے چیئرمین امانت اللہ خان کے چچا کا لڑکا تھا۔ کیجریوال نے مسلم وقف بورڈ کے وکیلوں کی ٹیم نے داؤں پیچ کھیل کر ڈاکٹری جھوٹی عمر کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بنا کر بچا لیا‘۔ 

فیکٹ چیک

متذکرہ بالا دعوے کی جانچ-پڑتال کے لیے ہم نے گوگول پر کچھ کی-ورڈ کی مدد سے سرچ کیا۔ ہمیں اس بابت مختلف میڈیا ہاؤسز کی جانب سے پبلش کئی رپورٹس ملیں۔ 

بی بی سی ہندی کی ایک رپورٹ کے مطابق نربھیا کیس میں کل 6 قصوروار تھے۔

بس ڈرائیور رام سنگھ اور اس کا چھوٹا بھائی مکیش سنگھ۔ ان کا خاندان 20 سال قبل راجستھان سے دہلی آیا تھا۔ ان کا گھر جنوبی دہلی کی روی داس جھگی جھوپڑی کالونی میں تھا۔ ان کے علاوہ جن لوگوں کو عدالت نے قصوروار پایا ان میں ونے شرما، اکشے ٹھاکر، پون گپتا اور ایک نابالغ تھے۔

BBC Hindi

ان میں سے رام سنگھ نے اپنی سزا کاٹتے ہوئے جیل میں خودکشی کر لی تھی اور نابالغ کو تین سال کے لیے اصلاح گھر بھیج دیا گیا۔ یہ ہندوستان کے قانون کے تحت کسی نابالغ کو دی جانے والی سزا کی طویل ترین مدت ہے۔ اس کا نام ظاہر کرنا قانوناً ممنوع ہے، اس لیے اس کا نام اور پتہ صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

ون انڈیا نے اپنی رپورٹ میں ہندوستان ٹائمس کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’ایک نابالغ کی باز آبادکاری کے عمل میں شامل ایک افسر نے بتایاکہ اسے ہمیشہ مارے جانے  کا ڈر لگا رہتا تھا۔ اس لیے اسے ساؤتھ انڈیا میں کہیں شفٹ کر دیا گیا۔ وہ فی الحال ایک معروف ریسٹورنٹ میں کام کر کے روزی روٹی کما رہا ہے۔ جس شخص نے اسے ملازمت پر رکھا تھا اسے بھی نابالغ کی ماضی کے بارے نہیں بتایا گیا ہے۔ افسر کا کہنا ہے کہ آفٹر کیئر پروگرام کے تحت ہم اس کی شناخت کو عام نہیں کر سکتے۔ اس کی حفاظت کرنا ہمارا کام ہے‘۔.

نتیجہ

DFRAC  کے اس فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ نربھیا کیس میں نابالغ ہندو تھا یا مسلمان، قانون کے تحت اس کا نام اور پتہ خفیہ رکھا گیا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون ہے؟ یہاں تک کہ اگر کوئی اسے جان بھی جائے اور اس کا نام اور پتہ ظاہر کرے تو یہ جرم ہوگا، اس لیے سوشل میڈیا یوزرس کا یہ دعویٰ فیک اور گمراہ کن ہے۔

دعویٰ: نربھیا کیس میں سب کو پھانسی ہوئی لیکن ایک راکشس #محمد_افروز بچ گیا

دعویٰ کنندگان: سوشل میڈیا یوزرس

فیکٹ چیک: فیک