Modi beef claim

فیکٹ چیک: وزیرِ اعظم مودی نے بھارت کو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بیف پروڈیوسر ملک نہیں کہا، گمراہ کن دعویٰ وائرل

Fact Check Fake Featured

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران آکلینڈ میں بھارتی برادری سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے بھارت کی ترقی کا بھی ذکر کیا۔ وزیرِ اعظم مودی کی اسی تقریر کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کیا جا رہا ہے۔ صارفین اس کلپ کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ وزیرِ اعظم مودی نے اپنے خطاب میں بھارت کو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بیف پروڈیوسر ملک قرار دیا ہے۔

اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا، ’’بھارت دنیا کا سب سے بڑا بیف پروڈیوسر ہے، نیوزی لینڈ پہنچ کر بیف اور فِش پر علم بانٹنے لگے۔‘‘

Link

اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے رشمی آئی این سی بھارتیہ نامی ایک اور صارف نے لکھا، ’بھارت میں گاؤ ماتا کے نام پر کشیدگی اور ووٹ بینک، نیوزی لینڈ پہنچ کر بیف اور فِش پر لیکچر! یہی وہ لوگ ہیں جو گھر میں گاؤ ماتا اور باہر بیف اور فِش کا علم بانٹتے ہیں۔ دوغلے پن کی بھی حد ہوتی ہے بھائی!‘

Link

اس کے علاوہ بھی کئی دیگر صارفین نے وزیرِ اعظم مودی کے اس کلپ کو بیف والے دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے، جسے یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وائرل دعوے کی جانچ میں پایا کہ یہ گمراہ کن ہے۔ وزیرِ اعظم مودی نے آکلینڈ میں بھارت کو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بیف پروڈیوسر ملک نہیں کہا۔ اپنے اصل بیان میں انہوں نے بھارت کو ویٹ (یعنی گیہوں) کا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا پروڈیوسر ملک بتایا تھا، جسے بیف بتا کر گمراہ کن دعویٰ کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود تقریر میں بھی ویٹ ہی لکھا ہوا ہے۔

وائرل ویڈیو کی جانچ کے لیے ہم نے وزیرِ اعظم مودی کے سرکاری یوٹیوب چینل نریندر مودی کا جائزہ لیا۔ وہاں ہمیں شارٹس سیکشن میں یہی تقریر ملی۔ اس ویڈیو میں وزیرِ اعظم مودی کی تقریر کا متن بھی لکھا ہوا ہے، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بیف نہیں بلکہ ویٹ پروڈیوسر کہا ہے۔

اس کے علاوہ ہمیں وزیرِ اعظم مودی کی یہی تقریر نیوز ایجنسی اے این آئی اور آئی اے این ایس پر بھی ملی۔ اے این آئی نے لکھا:

’’نیوزی لینڈ: آکلینڈ میں ایک کمیونٹی پروگرام کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا، "آج بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا ویکسین پروڈیوسر ملک ہے۔ موبائل ڈیٹا استعمال کے معاملے میں بھارت دنیا کے سرِفہرست ممالک میں شامل ہے۔ بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل مینوفیکچرر ملک ہے۔ بھارت دنیا کی دوسری سب سے بڑی ٹیلی کام مارکیٹ ہے۔ بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا گیہوں پروڈیوسر ملک ہے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا دودھ پروڈیوسر ملک ہے۔ بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا فِش پروڈیوسر ملک ہے۔”‘‘ (اردو ترجمہ)

اسی طرح آئی اے این ایس نے بھی وزیرِ اعظم مودی کا یہی بیان شائع کیا ہے۔

مزید جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے وزیرِ اعظم مودی کی سرکاری ویب سائٹ پی ایم انڈیا ڈاٹ جی او وی ڈاٹ اِن پر موجود تقریر کا تحریری متن دیکھا۔ ہم نے پایا کہ وہاں بھی وزیرِ اعظم کے بیان میں ویٹ پروڈیوسر ہی درج ہے۔ وزیرِ اعظم مودی کا بیان اس طرح ہے:

’’بھارت آج دنیا کی فاسٹسٹ گروئنگ میجر اکانومی ہے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا ویکسین پروڈیوسر ہے۔ بھارت موبائل ڈیٹا کنزمپشن کے معاملے میں دنیا کے سرِفہرست ممالک میں شامل ہے۔ آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل مینوفیکچرر ہے۔ آج بھارت دنیا کی دوسری سب سے بڑی ٹیلی کام مارکیٹ ہے۔ آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ویٹ پروڈیوسر ہے۔ آج بھارت دنیا کا سب سے بڑا ملک پروڈیوسر ہے۔ آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا فِش پروڈیوسر ہے۔‘‘

ہماری جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ وزیرِ اعظم مودی نے اپنی پوری تقریر میں کہیں بھی بیف کا ذکر نہیں کیا۔

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ وزیرِ اعظم مودی نے آکلینڈ میں اپنے خطاب کے دوران بھارت کو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بیف پروڈیوسر ملک نہیں کہا۔ انہوں نے بھارت کو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ویٹ (یعنی گیہوں) پروڈیوسر ملک قرار دیا تھا۔ لہٰذا صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔