UP police-video fake

فیکٹ چیک: کیا یوپی میں عیسائی خاتون پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں؟ وائرل ویڈیو کی حقیقت جانیے

Fact Check Featured Misleading Uncategorized

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار ایک خاتون کو لاٹھیوں سے مارتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ اتر پردیش کا ہے، جہاں اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ایک عیسائی خاتون کو پولیس نے بے رحمی سے پیٹا۔


سوشل سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ویریفائیڈ یوزر منی پور پوسٹ نے وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت اقلیتوں کو قتل کرتا ہے، اتر پردیش میں اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ایک عیسائی خاتون کو بھارتی پولیس نے بے رحمی سے پیٹا۔

Source: X

فیکٹ چیک:
وائرل ویڈیو کی جانچ کے لیے ڈی ایف آر اے سی نے ویڈیو کے کی فریم نکال کر ریورس سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں یہی ویڈیو ایکس پر ملا، جسے این ڈی ٹی وی نے 07 نومبر 2022 کو شیئر کیا تھا۔

Source: NDTV

اس کے علاوہ ہمیں اس واقعے سے متعلق این ڈی ٹی وی کی رپورٹ بھی ملی۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اتر پردیش کے جلال پور کا ہے۔ یہاں کچھ خواتین علاقے میں بی آر امبیڈکر کے مجسمے کو توڑے جانے کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں۔ تنازع اس زمین کو لے کر تھا جہاں مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔

Source: NDTV

اس کے علاوہ اس واقعے سے متعلق پولیس کا پریس نوٹ بھی ملا۔ پریس نوٹ کے مطابق 05 نومبر 2022 کو تھانہ جلال پور علاقے کے گاؤں واجدپور میں بی آر امبیڈکر کے مجسمے پر کچھ شرپسند عناصر نے کالک پوت دی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کی۔

Source: X

Source: X

پریس نوٹ کے مطابق، متنازع زمین کو لے کر دونوں فریقوں کی میٹنگ ہوئی تھی اور طے پایا تھا کہ بنجر زمین پر چار دیواری کر کے پارک بنایا جائے تاکہ مجسمہ محفوظ رہ سکے۔ 06 نومبر 2022 کو میونسپلٹی کی ٹیم چار دیواری بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسی دوران کچھ لوگوں اور مقامی خواتین نے مخالفت کی، پولیس پر پتھراؤ کیا، خواتین پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی کی اور سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا زور استعمال کیا۔

نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا گیا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو کسی عیسائی خاتون پر پولیس کارروائی کا نہیں، بلکہ نومبر 2022 میں جلال پور میں بی آر امبیڈکر کے مجسمے کو لے کر ہوئے تنازع اور احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کا ہے۔ وائرل دعویٰ غلط اور گمراہ کن ہے۔