پاکستانی پروپیگنڈا اکاؤنٹس نے ترنگے میں لپٹے تابوتوں کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول (LoC) پر بھارت کی جانب سے سیزفائر کی خلاف ورزی کی گئی، جس کے جواب میں پاکستان نے فائرنگ کی۔ اس فائرنگ میں متعدد بھارتی فوجی مارے گئے۔
اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا:
"بریکنگ نیوز: انڈین آرمی نے ایک بار پھر منڈل سیکٹر میں سیزفائر توڑا، عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے مارٹر حملہ کیا۔ پاکستان نے بھرپور جواب دیا، انڈین آرمی کی کمار ٹاپ پوسٹ پر قبضہ کر لیا اور اطلاعات ہیں کہ کئی فوجی ہلاک ہو گئے۔ پاکستانی جواب کے بعد فی الحال صورتحال پُرسکون ہے۔”

فیکٹ چیک:
DFRAC کی ٹیم نے تحقیقات میں پایا کہ شہید بھارتی فوجیوں کے تابوتوں کی یہ تصویر حالیہ نہیں ہے بلکہ 2013 کی ہے۔ ریورس امیج سرچ کرنے پر یہ تصویر شٹر اسٹاک ویب سائٹ پر ملی، جس کے ساتھ درج معلومات کے مطابق:
"6 اگست 2013 کو بھارتی فوجی ان ساتھیوں کے تابوتوں کے پاس کھڑے ہیں جنہیں پاکستانی دراندازوں نے پونچھ میں بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملے کے دوران ہلاک کیا تھا۔ یہ مقام جموں سے تقریباً 240 کلومیٹر دور ہے۔”

مزید تحقیق کے لیے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے متعلق گوگل سرچ کیا گیا۔ متعدد میڈیا رپورٹس میں پاکستان کی جانب سے سیزفائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی چوکیوں پر فائرنگ کی خبر دی گئی، تاہم ان رپورٹس کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اس کے علاوہ بھارتی فوج کی 16ویں کور کے سرکاری ایکس (ٹوئٹر) ہینڈل سے بھی پاکستانی دراندازی کی کوشش سے متعلق پوسٹس سامنے آئیں۔ ان پوسٹس میں بتایا گیا:
"خفیہ معلومات اور مسلسل نگرانی کی بنیاد پر 19 فروری 2026 کی علی الصبح، لائن آف کنٹرول (LoC) کے قریب سندربنی کے ناتھوا ٹبہ علاقے میں دہشت گردوں کی مشتبہ سرگرمی کا پتہ چلا۔ #WhiteKnightCorps کی مستعد دستوں نے فوری اور متوازن کارروائی کرتے ہوئے جوابی فائرنگ کی اور دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ ہماری فورسز کو علاقے پر مکمل کنٹرول یقینی بنانے کے لیے دوبارہ تعینات اور منظم کیا گیا ہے۔ زمینی اور فضائی نگرانی کے مربوط نظام کے ذریعے پورے سیکٹر میں اعلیٰ سطح کی آپریشنل چوکسی برقرار رکھی جا رہی ہے۔”
بھارتی فوج کی 16ویں کور کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
نتیجہ:
DFRAC کے فیکٹ چیک سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی فوجیوں کے تابوتوں کی یہ تصویر حالیہ نہیں بلکہ 2013 کی ہے۔ مزید برآں، لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فائرنگ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ لہٰذا صارف کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔

