سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو زبردست طریقے سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایک کٹر ہندو بریانی والے کا نام پوچھنے آتا ہے۔ اسی دوران وہاں کھڑا ایک باشعور شخص اس سے الجھ پڑتا ہے اور اس کے ساتھ بحث شروع ہو جاتی ہے۔ بحث کے بعد وہ کٹر ہندو وہاں سے چلا جاتا ہے۔
اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے ایک فیس بک صارف نے لکھا،
‘کٹر ہندو بریانی کی دکان پر نام پوچھنے گیا تھا، باشعور آدمی نے اس کی حالت خراب کر دی’۔
اس پوسٹ کو 6 ہزار سے زیادہ لائکس ملے ہیں، جبکہ 2 لاکھ 19 ہزار ویوز ہیں۔

یہ ویڈیو انسٹاگرام پر بھی ایک صارف کی جانب سے پوسٹ کیا گیا ہے، جسے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
۔
فیکٹ چیک:
DFRAC کی ٹیم کی جانب سے وائرل ویڈیو کی جانچ میں یہ بات واضح ہوئی کہ یہ ویڈیو کسی حقیقی واقعے کو ظاہر نہیں کرتا، بلکہ مکمل طور پر اسکرپٹڈ ہے۔ جانچ کے دوران ہماری ٹیم کو ویڈیو کا مکمل ورژن ملا، جو 2 فروری کو Janta News Online نامی یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کیا گیا تھا۔ ویڈیو کے پہلے حصے میں وہی کلپ دکھائی دیتی ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جبکہ دوسرے حصے میں ویڈیو میں نظر آنے والا شخص خود یہ بتاتا ہے کہ یہ ویڈیو بیداری پھیلانے کے مقصد سے تیار کیا گیا تھا۔
مزید جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ jantanewsonline کے انسٹاگرام چینل پر بھی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس اسکرپٹڈ ویڈیو میں جو شخص بریانی والے کا نام پوچھنے آتا ہے، اس کا نام یوسف ہے۔ اس ویڈیو میں بھی کانٹینٹ کریئیٹر کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ ویڈیو بیداری پھیلانے کے مقصد سے بنایا گیا تھا۔

نتیجہ:
DFRAC کے فیکٹ چیک سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر بریانی والے سے نام پوچھنے آئے کٹر ہندو کو بھگا دینے کا وائرل ویڈیو اسکرپٹڈ ہے، جسے کانٹینٹ کریئیٹرز نے تیار کیا ہے۔ اس لیے صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے

