منی پور میں جاری تشدد کے درمیان سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ منی پور کے رہنماؤں نے بھارتی فوج کی جانب سے مبینہ انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے بعد سرکاری طور پر بھارت سے آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔

سوشل سائٹ ایکس پر ایک ویریفائیڈ پاکستانی صارف "زرد سی گانا” نے اس وائرل ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ منی پور میں انڈین آرمی کی جانب سے مسلسل انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے بعد منی پور کے رہنماؤں نے باضابطہ طور پر بھارتی قبضے سے آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ منی پور میں مسلح فائٹر گروپس پورے علاقے پر قبضہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے بھارتی فورسز کو پیچھے ہٹنا پڑ رہا ہے۔ مبارک ہو!


اس کے علاوہ کئی دیگر پاکستانی صارفین نے بھی اسی دعوے کے ساتھ اس ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔
فیکٹ چیک

دعویٰ کی جانچ کے لیے DFRAC نے وائرل ویڈیو کے کی فریم نکال کر ریورس امیج سرچ کیا۔ تحقیق کے دوران ویڈیو کا ایک اسکرین شاٹ خبر رساں ویب سائٹ The Wire** کی ایک رپورٹ میں ملا۔
30 اکتوبر 2019 کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، منی پور کے دو علیحدگی پسند رہنماؤں، جو خود کو راجا لیشیمبا سناجاؤبا کا نمائندہ بتا رہے تھے، نے برطانیہ میں “منی پور گورنمنٹ اِن ایگزائل” (جلا وطن حکومت) کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
پریس کانفرنس میں یامبین بیرین نے خود کو “منی پور اسٹیٹ کونسل” کا چیف منسٹر قرار دیا، جبکہ نارینگبام سمرجیت نے خود کو “منی پور اسٹیٹ کونسل” کا وزیر برائے خارجہ امور و دفاع بتایا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ‘منی پور کے مہاراجہ’ کی جانب سے “منی پور اسٹیٹ کونسل” کے نام سے جلا وطن حکومت کا باضابطہ آغاز کر رہے ہیں۔


مزید تحقیق کے دوران اسی واقعے سے متعلق رپورٹس BBC Urdu اور Tibetsun پر بھی ملیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو سال 2019 کی ہے۔
نتیجہ:
DFRAC کے فیکٹ چیک سے واضح ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو کا موجودہ واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو 2019 کی ہے اور حالیہ تشدد سے متعلق نہیں ہے۔ لہٰذا منی پور کے رہنماؤں کی جانب سے حال ہی میں بھارت سے سرکاری طور پر آزادی کے اعلان کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔

